یہ ہفتےکا دن تھا ، جب 21 مئی، 2016 کو پاکستان کے صوبے بلوچستان میں افغان طالبان کے سربراہ اختر منصور نے سڑک کے کنارے ڈھابے پر دوپہر کا کھانا ختم کیا اور پھر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی جانب گامزن سفر ہوئے۔ سفر کے دوران انکی سفید ٹیوٹا کرولا گاڑی امریکی فوج کے ریپر ڈرون سے فائر ہونے والے 2 میزائلوں کا نشانہ بنی اور تباہی سے مسخ ہوکر دھاتی ٹکرے میں تبدیل ہوگئی۔
اختر منصور کی ہلاکت ایک لمحہ کے اندر واقع ہوئی، انکی موت اب افغانستان میں 20 سالہ امریکی بدقسمتی کا پیغام ہے لیکن گاڑی کی مسخ شدہ باقیات میں سے انکا چمک دار سبز پلاسٹک کارڈ بچ گیا۔ یہ پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا جاری کردہ قومی شناختی کارڈ تھا جس میں اختر منصور کی شناخت پاکستانی شہری محمد ولی کے نام سے درج تھی۔
پاکستان میں طالبان کے سربراہ کے پاس مصدقہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی موجودگی کافی شرمندگی کا باعث تھی۔ اس کے جواب میں حکومت نے شہریوں کی شناخت کی دوبارہ تصدیقی مہم کا آغاز کیا تاکہ شہریوں کے روپ میں موجود غیرملکیوں کو نشاندہی کرکے انہیں نکالا جائے اور اس طرح 18 کروڑ افراد کو مجبور کیا کہ وہ ثابت کریں کہ وہ پاکستانی ہیں ۔
اس موسم گرما میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ڈرامائی پس منظر میں، گلزار بی بی کو نادرا سے ایک خط موصول ہوا جس میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ ان کا نادرا کارڈ 'ڈیجیٹل طور پر ضبط' کیا جاچکا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا لیکن اس فیصلے سے انکی زندگی تلپٹ ہوکر رہ گئی ہے اور آنے والے سالوں میں وہ خوف کی زندگی بسر کرنے لگیں گی۔




